World
بروٹس نے سیزر کو کیوں مارا؟
W
Webmaster
View Profile →
View Profile →
بروٹس نے سیزر کو کیوں مارا؟ یہ دوستی کا قتل نہیں، نظریے کا قتل تھا۔
پس منظر - سیزر بادشاہ بن رہا تھا
روم میں پانچ سو سال سے جمہوریہ تھی۔ وہاں قانون تھا کہ کوئی ایک شخص بادشاہ نہیں بن سکتا۔ سارے فیصلے سینیٹ کرتی تھی۔
جولیس سیزر نے گال یعنی موجودہ فرانس فتح کیا، اپنے حریف پومپے کو شکست دی، اور روم کا سب سے طاقتور آدمی بن گیا۔ اس نے ایسے کام کیے جو سینیٹ کو بادشاہت لگے:
**تاحیات ڈکٹیٹر بن گیا:** اسے تاحیات ڈکٹیٹر کا خطاب دے دیا گیا، جس کا مطلب تھا کہ اب وہ مرتے دم تک روم کا حکمران ہے۔
**اپنے چہرے کے سکے:** روم میں آج تک کسی زندہ شخص کے چہرے والا سکہ نہیں بنا تھا، یہ صرف بادشاہ کرتے تھے۔ سیزر نے اپنے چہرے والے سونے کے سکے بنوا دیے۔
**سونے کا تخت:** سینیٹ میں اس کے لیے سونے کی کرسی لگائی جاتی تھی۔ وہ ارغوانی لباس پہنتا تھا جو قدیم رومی بادشاہ پہنتے تھے۔
**تاج والا واقعہ:** لوپرکالیا تہوار پر مارک انتونی نے سب کے سامنے سیزر کو بادشاہ کا تاج پیش کیا۔ سیزر نے دو بار انکار کیا، تیسری بار لینے لگا۔ لوگ خاموش رہے تو اس نے واپس کر دیا۔ سینیٹروں کو لگا یہ صرف ایک ڈرامہ ہے۔
سینیٹرز ڈر گئے کہ کل وہ خود کو باقاعدہ بادشاہ اعلان کر دے گا۔
### سازش کیسے بنی؟
ساٹھ سے اسی کے قریب سینیٹروں نے سازش کی، جس کے دو بڑے رہنما تھے:
**کیسیئس:** وہ سیزر سے حسد کرتا تھا اور وہی سب کو اکٹھا کر رہا تھا۔
**بروٹس:** وہ سازش کی روح تھا۔ بروٹس کو سب ایماندار اور جمہوریہ سے محبت کرنے والا سمجھتے تھے۔ اس کے آباء و اجداد نے پانچ سو سال پہلے روم کے آخری بادشاہ کو نکالا تھا۔ کیسیئس جانتا تھا کہ اگر بروٹس ساتھ ہوگا تو یہ قتل، قتل نہیں بلکہ قربانی لگے گی۔
بروٹس کے لیے یہ فیصلہ بہت مشکل تھا۔ سیزر اس کا محسن تھا۔ سیزر نے جنگ میں بروٹس کو معاف کیا تھا اور اسے بڑے عہدے دیے تھے۔ لیکن بروٹس سمجھتا تھا کہ اس کا رشتہ روم سے بڑا ہے، سیزر سے نہیں۔
اسے رات کو گمنام خط آتے تھے جن پر لکھا ہوتا تھا، اے بروٹس، کیا تم سو رہے ہو؟ تمہارے آباء و اجداد تمہیں دیکھ رہے ہیں۔
### قتل کا دن - پندرہ مارچ، چوالیس قبل مسیح
اس دن کو رومی آئیڈز آف مارچ کہتے تھے۔
بیوی نے سیزر کو منع کیا۔ ایک نجومی نے کہا تھا پندرہ مارچ سے ہوشیار رہو۔ رات کو سیزر کی بیوی کلپورنیا نے خواب دیکھا کہ سیزر کی لاش خون میں لت پت ہے۔
لیکن بروٹس خود جا کر سیزر کو سینیٹ لے آیا۔
سینیٹ کے ہال میں، پومپے کے مجسمے کے سامنے، سب نے سیزر کو گھیر لیا۔ پہلے ٹیلیئس سمبر نے اس کا چوغہ پکڑا، پھر کیسکا نے گردن پر وار کیا۔ سیزر نے مزاحمت کی، لیکن جب اس نے دیکھا کہ بروٹس بھی خنجر لیے کھڑا ہے تو کہا جاتا ہے اس نے یونانی زبان میں کہا:
**تم بھی، میرے بچے؟**
اس کے بعد اس نے اپنا چہرہ چوغے سے ڈھانپ لیا اور گر گیا۔ اس کے جسم پر تئیس زخم تھے۔
### اس کے بعد کیا ہوا؟
بروٹس سمجھا تھا کہ لوگ اسے ہیرو کہیں گے اور جمہوریہ بچ جائے گی۔ ہوا اس کا بالکل الٹ۔
مارک انتونی نے سیزر کی لاش دکھا کر روم کے لوگوں کو بھڑکا دیا۔ لوگوں نے قاتلوں کے گھر جلا دیے۔ بروٹس اور اس کے ساتھیوں کو روم سے بھاگنا پڑا۔
اس کے بعد رومی خانہ جنگی شروع ہوئی۔ دو سال بعد فلپی کی لڑائی میں بروٹس ہار گیا اور اپنی ہی تلوار پر گر کر خودکشی کر لی۔
وہ جمہوریہ جسے بچانے کے لیے اس نے سیزر کو مارا تھا، اس کے قتل کے سترہ سال بعد ہی ہمیشہ کے لیے ختم ہو گئی اور آگسٹس روم کا پہلا باقاعدہ شہنشاہ بن گیا۔
پس منظر - سیزر بادشاہ بن رہا تھا
روم میں پانچ سو سال سے جمہوریہ تھی۔ وہاں قانون تھا کہ کوئی ایک شخص بادشاہ نہیں بن سکتا۔ سارے فیصلے سینیٹ کرتی تھی۔
جولیس سیزر نے گال یعنی موجودہ فرانس فتح کیا، اپنے حریف پومپے کو شکست دی، اور روم کا سب سے طاقتور آدمی بن گیا۔ اس نے ایسے کام کیے جو سینیٹ کو بادشاہت لگے:
**تاحیات ڈکٹیٹر بن گیا:** اسے تاحیات ڈکٹیٹر کا خطاب دے دیا گیا، جس کا مطلب تھا کہ اب وہ مرتے دم تک روم کا حکمران ہے۔
**اپنے چہرے کے سکے:** روم میں آج تک کسی زندہ شخص کے چہرے والا سکہ نہیں بنا تھا، یہ صرف بادشاہ کرتے تھے۔ سیزر نے اپنے چہرے والے سونے کے سکے بنوا دیے۔
**سونے کا تخت:** سینیٹ میں اس کے لیے سونے کی کرسی لگائی جاتی تھی۔ وہ ارغوانی لباس پہنتا تھا جو قدیم رومی بادشاہ پہنتے تھے۔
**تاج والا واقعہ:** لوپرکالیا تہوار پر مارک انتونی نے سب کے سامنے سیزر کو بادشاہ کا تاج پیش کیا۔ سیزر نے دو بار انکار کیا، تیسری بار لینے لگا۔ لوگ خاموش رہے تو اس نے واپس کر دیا۔ سینیٹروں کو لگا یہ صرف ایک ڈرامہ ہے۔
سینیٹرز ڈر گئے کہ کل وہ خود کو باقاعدہ بادشاہ اعلان کر دے گا۔
### سازش کیسے بنی؟
ساٹھ سے اسی کے قریب سینیٹروں نے سازش کی، جس کے دو بڑے رہنما تھے:
**کیسیئس:** وہ سیزر سے حسد کرتا تھا اور وہی سب کو اکٹھا کر رہا تھا۔
**بروٹس:** وہ سازش کی روح تھا۔ بروٹس کو سب ایماندار اور جمہوریہ سے محبت کرنے والا سمجھتے تھے۔ اس کے آباء و اجداد نے پانچ سو سال پہلے روم کے آخری بادشاہ کو نکالا تھا۔ کیسیئس جانتا تھا کہ اگر بروٹس ساتھ ہوگا تو یہ قتل، قتل نہیں بلکہ قربانی لگے گی۔
بروٹس کے لیے یہ فیصلہ بہت مشکل تھا۔ سیزر اس کا محسن تھا۔ سیزر نے جنگ میں بروٹس کو معاف کیا تھا اور اسے بڑے عہدے دیے تھے۔ لیکن بروٹس سمجھتا تھا کہ اس کا رشتہ روم سے بڑا ہے، سیزر سے نہیں۔
اسے رات کو گمنام خط آتے تھے جن پر لکھا ہوتا تھا، اے بروٹس، کیا تم سو رہے ہو؟ تمہارے آباء و اجداد تمہیں دیکھ رہے ہیں۔
### قتل کا دن - پندرہ مارچ، چوالیس قبل مسیح
اس دن کو رومی آئیڈز آف مارچ کہتے تھے۔
بیوی نے سیزر کو منع کیا۔ ایک نجومی نے کہا تھا پندرہ مارچ سے ہوشیار رہو۔ رات کو سیزر کی بیوی کلپورنیا نے خواب دیکھا کہ سیزر کی لاش خون میں لت پت ہے۔
لیکن بروٹس خود جا کر سیزر کو سینیٹ لے آیا۔
سینیٹ کے ہال میں، پومپے کے مجسمے کے سامنے، سب نے سیزر کو گھیر لیا۔ پہلے ٹیلیئس سمبر نے اس کا چوغہ پکڑا، پھر کیسکا نے گردن پر وار کیا۔ سیزر نے مزاحمت کی، لیکن جب اس نے دیکھا کہ بروٹس بھی خنجر لیے کھڑا ہے تو کہا جاتا ہے اس نے یونانی زبان میں کہا:
**تم بھی، میرے بچے؟**
اس کے بعد اس نے اپنا چہرہ چوغے سے ڈھانپ لیا اور گر گیا۔ اس کے جسم پر تئیس زخم تھے۔
### اس کے بعد کیا ہوا؟
بروٹس سمجھا تھا کہ لوگ اسے ہیرو کہیں گے اور جمہوریہ بچ جائے گی۔ ہوا اس کا بالکل الٹ۔
مارک انتونی نے سیزر کی لاش دکھا کر روم کے لوگوں کو بھڑکا دیا۔ لوگوں نے قاتلوں کے گھر جلا دیے۔ بروٹس اور اس کے ساتھیوں کو روم سے بھاگنا پڑا۔
اس کے بعد رومی خانہ جنگی شروع ہوئی۔ دو سال بعد فلپی کی لڑائی میں بروٹس ہار گیا اور اپنی ہی تلوار پر گر کر خودکشی کر لی۔
وہ جمہوریہ جسے بچانے کے لیے اس نے سیزر کو مارا تھا، اس کے قتل کے سترہ سال بعد ہی ہمیشہ کے لیے ختم ہو گئی اور آگسٹس روم کا پہلا باقاعدہ شہنشاہ بن گیا۔

